مینگلور 20/مارچ (ایس او نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہوگئی ہیں، بی جے پی جہاں اقتدار میں آنے کے لئے زور وشور سے جُٹی ہے، وہیں کانگریس کے سامنے اقتدار بچانے کی چنوتی ہے، اس درمیان کانگریس صدر راہول گاندھی نے پارٹی کی حمایت میں ماحول بنانے کے لئے منگل صبح ایک ریلی میں شریک ہوئے اور بعد میں مینگلور میں روڈ شو نکالا۔ روڈ شو میں راہول کے ساتھ ریاستی وزیراعلیٰ سدرامیا بھی موجود تھے۔
اُڈپی کے موڈبیدرے اور مینگلورنیز سورتکل میں عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے بی جے پی پر کرارا وار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اقتدار پانے کے لئے نہ صرف تشدد برپا کرسکتی ہے اور پیسوں کا استعمال کرسکتی ہے ، بلکہ اقتدار پانے کے لئے بی جے پی کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ انتخابی پرچار کے اپنے تیسرے کرناٹکا دورہ میں راہول گاندھی نے مودی پر الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی ملک کی ترقی کا سہرا اپنے سر سجاتے ہوئے عام لوگوں کی توہین کررہے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ مودی جہاں بھی جاتے ہیں کہتے ہیں کہ 70 سالوں میں ملک میں کچھ نہیں ہوا۔ مودی کا یہ بیان ملک کے بزرگان، کسان اور غریب عوام کی جدوجہد اور کوششوں کو نظر انداز کرکے اُن کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔مزید کہا کہ مودی جھوٹ پر جھوٹ بول کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ راہول نے کہا کہ ملک ہندوستان آج ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہے، بڑے بڑے ممالک کے دوش بدوش کھڑے ہونے میں برسوں لگتے ہیں اور 70 برسوں کی جدوجہد کے بعد ملک آج اس مقام پرپہنچا ہے، مزید کہا کہ ملک کی ترقی میں جب تک 125 کروڑ عوام کا ساتھ نہیں ملتا، تب تک کوئی بھی ترقی ممکن نہیں ہے۔
راہول نے کہا کہ کانگریس نے ملک بھر میں عوام کی سہولت کے لئے بینکوں کا جال بچھایا، مگر مودی حکومت نے صرف دو برسوں میں بینکوں کا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا۔ اب بینکوں سے عوام کا اعتماد ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
جنا آشیرواد کے نام پر کرناٹک کے دو روزہ دورہ پر آئے راہول نے الزام لگایا کہ میگھالیہ، منی پور اور ارونا چل پردیش میں انہوں نے پیسہ کا استعمال کرتے ہوئے سرکار بنائی ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز کانگریس کے عظیم الشان کانفرنس میں راہول نے مہا بھارت کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی کو کورو اور کانگریس کو پانڈو قرار دیا تھا، راہول نے یہاں مینگلور اور اُڈپی کے اپنے خطاب میں بھی اُن باتوں کو دھرایا۔ راہول گاندھی نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر جم کر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ یہ سرکار صرف کسانوں کے قرضے معاف کرنے کی باتیں کرتی ہے، لیکن امیروں کا قرضہ معاف کردیتی ہے۔
راہول نے کہا، "گزشتہ چند برسوں میں، بی جے پی حکومت نے 15 امیر لوگوں کا 2.5 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض معاف کیا ہے.لیکن جب کسانوں کے قرضہ کی معافی کی بات آتی ہے تو مودی جی اور وزیر مالیت (ارون جیٹلی) کہتے ہیں کہ یہ اُن کی پالیسی میں ہی نہیں ہے.راہول نے بتایا کہ سدارامیا جی اور کرناٹک کی کانگریس سرکار نے ریاست کے کسانوں کا آٹھ ہزار کروڑ روپئے کا قرض معاف کیا ہے.
راہول گاندھی نے کہا کہ جب بی جے پی اقتدار پر آئی تو مودی نے کہا تھا کہ میں وزیراعظم نہیں بلکہ چوکیدار بن کر ملک کی حفاظت کروں گا، لیکن اب نیرو مودی وجئے مالیا و دیگر صنعتکار عوام کی کروڑوں روپئے کی رقم لے کر ملک سے فرار ہوگئے، ہزاروں کا گھوٹالہ کرکے بھاگ گئے، مگر اس چوکیدار کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکلا۔ راہول نے شبہ ظاہر کیا کہ گھپلہ بازوں کو ملک سے بھگانے میں کہیں مودی کا ہاتھ تو نہیں ہے ؟
ائرفورس کے لئے رافیل ہوائی جہاز کا تذکرہ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے فی ہوائی جہاز 570 کروڑ کی ڈیل فائنل کی تھی، مگر مودی نے پیرس جاکر کنٹریکٹ کو بدلوا دیا اورہوائی جہاز کا یہ کنٹریکٹ اپنے ایک دوست کو دے دیا ، لیکن جب بار بار پوچھا گیا کہ ڈیل کتنے کی فائنل ہوئی ہے تو کوئی بتانے کے لئے تیار نہیں تھا، مگر اب جاکر پتہ چلا ہے کہ مودی سرکار یہی ہوائی جہاز اب 1600 کروڑ روپئے میں خریدیں گے۔ راہول نے سوال کیا کہ عوام کی چالیس ہزار کروڑ روپئے کس کی جیب میں جارہی ہے، انہوں نے مودی کو چوکیدار کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ چوکیدار اب بھی خاموش کیوں ہے ؟
راہول نے مودی کا ایک اور وعدہ یاد دلاتے ہوئے پوچھا کہ سال میں دو کروڑ لوگوں کو روزگار دلانے کے وعدے کا کیا ہوا ؟ راہول نے کہا کہ مودی سرکار کے پاس اب بھی ایک سال کا وقت باقی ہے، بہتر ہے کہ ایک سال میں اپنے وعدوں کو پورا کرکے دکھائے۔
راہول نے پانچ سو اور ایک ہزار روپئے کے نوٹ کو اچانک ختم کئے جانے پر بھی مودی کو سوالات کے گھیرے میں لیا اور کہا کہ مودی نے بینک کے پیچھے کے دروازے سے لوگوں کے کالے دھن کو سفید میں بدلوائے ہیں، مگر کسانوں اور عام بیوپاریوں کوراستوں میں کھڑا کردیا ہے۔ راہول نے کالے دھن کے خلاف لڑائی، چوری اور بھرشٹا چار پر سوالات اُٹھائے اور چوکیدار کی خاموشی کو نشانہ بنایا۔
راہول نے نوٹ بندی کے بعد بہت ساری کمپنیاں بند ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک کمپنی کو نوٹ بندی سے فائدہ ہوا اور اُس کمپنی نے صرف تین مہینے میں پچاس ہزار سے بڑھ کر 80 کروڑ کا منافع حاصل کیا اور وہ کمپنی امت شاہ کے بیٹے کی تھی۔
راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی صرف ایک سنگٹھن کی آواز ہے مگر کانگریس ایک دیش کی آواز ہے۔ہم دیش کے لئے کام کرتے ہیں اور دیش کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مگر بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کا سنگھٹن ہے۔ وہ لوگ اقتدار کے لئے کچھ بھی کرتے ہیں، یہی کانگریس اور بی جے پی میں فرق ہے۔
راہول نے کہا کہ مودی اسٹیج پر کھڑے ہوکر بھرشٹا چار کی بات کرتے ہیں، مگر حیرت ہے کہ اُسی اسٹیج پر جیل سے سزا کاٹ کر آنے والے چار منتری بیٹھے ہوتے ہیں، راہول نے یہ بھی کہا کہ مودی کے اُسی اسٹیج پر اُن کے وزیراعلی کے اُمیدوار بھی بیٹھے ہوتے ہیں جو جیل کاٹ کر آئے ہیں۔ راہول نے کہا کہ مودی عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں ، انہیں ایسا لگتا ہے کہ عوام کو کچھ سمجھ نہیں ہے، مگر مودی یہ نہیں جانتے کہ عوام نے اُن پر بھروسہ کیا تھا عوام نے ووٹ بھاشن کے لئے نہیں دیا تھا۔
راہول نے عوام الناس سے کانگریس کے حق میں اپنا ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میں پچھلے پانچ سالوں میں جتنا کام ہوا ہے، اگلے پانچ سالوں میں اس سے دوگنا کام کرکے دکھائیں گے۔انہوں نے مرکز میں کانگریس حکومت آنے کی صورت میں ایک طرف کئی اعلانات کئے، وہیں ملک کے تمام کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا بھی اعلان کیا۔